یوم اقبال پر
اخترؔ آصفی پشاوری
شوق کی کیا انتہا ہوگی کہاں سمجھا تھا میں
آرزو کو راحت و آرام جاں سمجھا تھا میں
اور مجھ کو مبتلائے کرب کر کے ٹل گئی
وہ بلا بھی جس کو مرگ ناگہاں سمجھا تھا میں
پُر نظر آیا اثر ہائے بہارِ رفتہ سے
جس چمن کو وقف بیداد خزاں سمجھا تھا میں
گرد کو بھی میں نہ پہنچا کارواں منزل میں تھا
گرد راہ کارواں کو کارواں سمجھا تھا میں
آہ دہ بھی وقف نکلی منعموں کے واسطے
چشم ساقی کو انیس بے کساں سمجھا تھا میں
حسن مطلق کا اثر پرتو فگن ہے ہر طرف
خلق کو دلدادہ حسنِ بتاں سمجھا تھا میں
کشتی امید دل لگتی کنارے کس طرح
مَوجِ طوفانِ بلا کوبادباں سمجھا تھا میں
عرض مطلب پر خموشی تھی جواب جاہلاں
جس کو نادانی سے عنوانِ بیاں سمجھا تھا میں
شوق نے پاتے ہی مقصد صبر کی لوٹی متاع
رہزن منزل کو میر کارواں سمجھا تھا میں
گلشنِ دل کو جوانی نے کیا آکر تباہ
تھی خزاں جسکو بہار بوستاں سمجھا تھا میں
ذرے ذرے میں تو تھا ہی دل میں بھی تھا اس کا نقش
با نشاں نکلا وہ اخترؔ بے نشاں سمجھا تھا میں