غزل 43
اخترؔ آصفی پشاوری
ان کے جلوے جو تصور میں نظر آتے ہیں
ہو بہو صفحہ خاطر پہ اتر آتے ہیں
تذکرہ چاندنی راتوں کا جو سن لیتا ہوں
اور چہرے مری یادوں کے نکھر آتے ہیں
ان سے دیکھا نہیں جاتا مرا احوال زبوں
اج کچھ کچھ وہ پشیمان نظر آتے ہیں
مرے گھر کی طرف اول توہ وہ آتے ہی نہیں
کچھ پریشاں نظر آتے ہیں اگر آتے ہیں
چشم تر خون بہانے لگی فرقت میں تری
اب تو آنسو کی جگہ خونِ جگر آتے ہیں
منتظر ان کے ہیں اغیار بھی ہم بھی دیکھیں
وہ اُدھر جاتے ہیں پہلے کہ اِدھر آتے ہیں
خلوت ناز سے اُن کے یہ صدا آتی ہے
بے خبر جائیں گے سینے جو خبر آتے ہیں
در و دیوار پر آجاتی ہے اک رونق سی
بھولے بسرے جو کبھی وہ مرے گھر آتے ہیں
شعر پڑھنے کا یہاں آتا ہے کچھ لطف اخترؔ
اس جگہ اہل ہنر جمع نظر آتے ہیں