طرفہ قریشی
اخترؔ آصفی پشاوری
سرزمیں پر تیری ہے طرفہ قریشی کا مکاں
رہنمائے منزل دل جس کے قدموں کے نشاں
نکتہ پرور نکتہ آرا شاعر عالی دماغ
عقل کے آگے جلاتا ہے محبت کا چراغ
اس کا ہر نقطہ ہے تارا آسمان شعر کا
آج وہ روشن ستارا ہے جہانِ شعر کا
باندھتا ہے اس کا ہر ہر لفظ معنی کا طلسم
وہ ادب کی جان ہے یعنی ادب ہے اسکا جسم
اے صبا حاصل اگر تو کر سکے اذن کلام
اسکی خدمت میں مرا بھی عرض کر دینا سلام