قطعہ 2
اخترؔ آصفی پشاوری
تلافیِ ستمِ روزگار کرتا ہوں
خزاں کے دور کو رشکِ بہار کرتا ہوں
جبین زیست پہ جب دیکھتا ہوں غم کی شکن
کنارے جو بط مئے کا شکار کرتا ہوں
بمقام:ڈھاکہ
اخترؔ آصفی پشاوری
تلافیِ ستمِ روزگار کرتا ہوں
خزاں کے دور کو رشکِ بہار کرتا ہوں
جبین زیست پہ جب دیکھتا ہوں غم کی شکن
کنارے جو بط مئے کا شکار کرتا ہوں