غزل 69
اخترؔ آصفی پشاوری
تحیر کے سوا مدمقابل جلوہ کا کیا ہے
اٹھا دو تم اگر پردہ تو پھر پردہ ہی پردا ہے
مبارک ہو تجھے واعظ تری جنت تری دوزخ
محبت میری دنیا ہے محبت میری عقبی ہے
جنوں بن جا سراپا دفن کر یاں خواہشیں دلکی
یہ اچھا شوق ہے تیرا نہ پنہاں ہے نہ رسوا ہے
نہیں ہے اس کا جلوہ حق فگر آنکھو نسے پوشیدہ
نمائش کی نمائش ہوتی ہے پردے کا پردا ہے
وہ رت بدلی وہ آئے گھر کے بادل اے مرے ساقی
اٹھا مینا پیالہ بھر پس و پیش اب تجھے کیا ہے
قیامت سے ڈراتا ہے مجھے کیا واعظ مشفق
قیامت رات دن مرے دلِ مضطر میں برپا ہے
جب آجاتا ہے اپنا عہد ماضی مجھ کو یاد اخترؔ
تو اک چشمہ الم کا مری آنکھوں سے ابلتا ہے
بمقام و تاریخ:ڈھاکہ•۲۱ اپریل ۱۹۵۱