غزل 31
اخترؔ آصفی پشاوری
شرم آئی نہ تمہیں عشق کا چرچا کرتے
مر بھی جاتے تو نہ اس راز کو افشا کرتے
شوق کا اپنے وہ عالم ہے کہ کہتے وہ اگر
آج کچھ پاس نہ ہم ان کی حیا کا کرتے
کوئی حسرت کے نکلنے کی نہ نکلی تدبیر
ورنہ ہم کس لئے تقدیر کو رویا کرتے
آ چلے آنکھوں میں تقویٰ شکنی کے انداز
اب تو بے پردہ نہ تم سامنے آیا کرتے
سر کو دیوار سے ٹکرا کر کیا قصہ تمام
ناک کب تک تری دہلیز رگڑا کرتے
جلوہ فرمائی جو کرتے وہ سرِ بام اخترؔ
چشم مشتاق کو حیرانِ تماشا کرتے