سہرا
تاج مہر مرحوم کی دوسری شادی کا سہرا
اخترؔ آصفی پشاوری
گلزار جہاں سربر ہوا پیغام صبا کیا لائی ہے
ہر پتہ پتہ تازہ وتر کلیوں پہ جوانی آئی ھے
ہر شاخ پہ مستی کا عالم ہر پھول بنا ہے پیمانہ
کیا ساقی فطرت نے اخترؔ پھر کھول دیا ہے میخانہ
چلتے ہوئے فرش پہ سبزے کے لو بادِ صبا اٹھلاتی ہے
ہو وجد سا جیسے اس پر بلبل گیت خوشی کا گاتی ہے
دل اہل نظر کا جلووں سے مسرور ہوا پر نور ہوا
جو داغ تمنا تھا کل تک وہ آج چراغ طور ہوا
یہ کون اسیر زلف ہوا یہ دھوم ہے کسکی شادی کی
پر بھینٹ چڑھائی کس نے وفا کی چوکھٹ پر آزادی کی
بے موسم گل اس گلشن میں یہ کیف بہاراں کیا معنی
اس بزم طرب کا کیا مطلب ہر سمت چراغاں کیا معنی
اے چشم تجسّس تجھ سے کہیں رہ سکتی ہے یہ بات عیاں
یہ جشن عروسی تاج کا ہے تاج ہی اسکا روح رواں
وہ تاج کہ جس کے حصے میں الفت کی سعادت آئی ہے
وہ تاج کہ جس نے قدرت سے اخلاص کی دولت پائی ہے
وہ تاج محبت پر جسکی ارباب محبت نازاں ہیں
وہ تاج محبت میں جس کے دل اور طبیعت نازاں ہیں
وہ تاج محبت پر جسکی کرتے ہیں رشک ارباب وفا
وہ تاج محبت میں جس کی ہے جلوہ مہر و صدق و صفا
وہ تاج بتانِ خودسر سے جسنے کہ تعلق توڑ دیا
الفت کے مقدس رشتہ کو اک حور حرم سے جوڑ دیا
اس دور سعادت کے صدقے ساتھ اپنے جو یہ دن لایا ہے
ہر اہل پشاور کے دل پر اک رنگ مسرت چھایا ہے
وہ کون ہے جو دل شاد نہیں اے تاج تمہاری شادی سے
جس قید میں دلکو چین ملے وہ قید بھلی آزادی سے
یہ رشتہ مبارک ثابت ہو اللہ یہ شادی راس آئے
دن عیش و مسرت میں گزریں غم انکے نہ ہر گز پاس آئے