غزل 13
اخترؔ آصفی پشاوری
سحرِ عید کا آنکھوں میں سماں پیدا ہے
تم نظر آئے ہو یا چاند نظر آیا ہے
پاس توبہ کا ادھر دور اُدھر صہبا کا
دیکھنا یہ ہے کہ دِل کس کی طرف جھکتا ہے
رشتہ ہوتا ہے محبت کا نہایت نازک
اس سے واقف ہے وہی جس نے اسے برتا ہے
بھول جانا تمہیں آسان نہیں، کیونکر ہو
دل میں بیٹھا ہوا چٹکی سی کوئی لیتا ہے
بے خلل عیش مبارک تجھے اپنا ہے یہ حال
نال کرنے کے تصور سے بھی دم رکتا ہے
ذکر آتے ہی ترا کان کھڑے ہوتے ہیں
عقل حیرت میں ہے آخر یہ جنوں کیسا ہے
سحرِ عیش کی دیتا ہے بشارت اخترؔ
وہ ستارا افقِ چرخ پہ جو چکا ہے
برائے:بزم آصفی (۱۹ جولائی ۱۹۶۳)