ساقی
اخترؔ آصفی پشاوری
نہ وہ صحرا نوردی ہے نہ وہ جوش جنوں ساقی
پلا میخوار کو پھر اپنے جام لالہ گوں ساقی
پلادے پھر مجھے مئے کا پیالہ موسم گل میں
کہ کچھ دن اور تیرا نام لے لے کر جیوں ساقی
فسانہ کر دیا زاہد کا زہد خشک بھی تو نے
اسے رستہ پہ لا سکتا نہ تھا کوئی فسوں ساقی
وہ سنگیں وارداتیں مجھ پہ جو گذری ہیں فرقت میں
بھری محفل میں سب کے سامنے کیونکر کہوں ساقی
مسیحائی بیاں کیا کیجیے ترے تغافل کی
خدا بخشے ترے بیمار نے پایا سکوں ساقی
میں وہ میکش ہوں زاہد مجھ کو بہکا ہی نہیں سکتا
عوض اک جام کے فردوس بھی ہر گز نہ لوں ساقی
نہ کیوں دامن پہ میرے ہو گمان دامن گلشن
مری آنکھوں نے برسائے ہیں برسوں اشک خوں ساقی
نہ بادہ ہے نہ پیمانہ نہ چشم لطف پرور ہے
جیوں تو بے کسی امید کے کیونکر جیوں ساقی
خدا کے واسطے جلدی ذرا کر دور ساغر میں
نہ دل کو پھونک دے مرے کہیں سوز دروں ساقی
کبھی حصے میں میرے بھی چھلکتا جام آئے گا
کبھی سیدھا بھی ہو گا مرا بختِ واژگوں ساقی
عطا کر ایک پیمانہ مئے جذبات پرور کا
سنانا ہے مجھے اخترؔ کا احوال زبوں ساقی