رنگون
اخترؔ آصفی پشاوری
سر میں اے ساقی سمائی ہے ہوا رنگون کی
مئے پلا ایسی کہ جو ہو رہنما رنگون کی
روح ہو جاتی ہے بالیدہ پھڑک جاتا ہے دل
جب مرے کانوں میں آتی ہے صدا رنگون کی
باده افرنج سے تسکین ہو سکتی نہیں
مئے پلا اے ساقی رنگیں ادا رنگون کی
اس کے آگے خُلد کی نیرنگیوں کا ذکر کیا
بات ہی کچھ اور ہے نامِ خدا رنگون کی
دردِ دل کے واسطے اے چارہ ساز دردِ دِل
بس سی ذرا چائے خاکِ شفا رنگون کی
کیوں نہ میں اس کو کہوں سرمایہ حسن و جمال
جب ہے آتی دل کشا آب و ہوا رنگون کی
کر دیا سرسبز مرے گلشن تخیل کو
الله الله کیا ہی رنگیں ہے فضا رنگون کی
دعوت نظارہ دیتی ہے مکانوں کی قطار
دل لبھا لیتی ہیں سڑکیں خوشنما رنگون کی
ان مناظر کو میں اخترؔ بھول سکتا ہی نہیں
سیر ہے مرے لئے فرحت فزا رنگون کی