رنگ جدید
اخترؔ آصفی پشاوری
صورت سے وہ ہماری بیزار ہو گئے ہیں
ہر چند ہم سراپا ایثار ہو گئے ہیں
آنکھیں دکھاؤ تم یا لو کام بیروخی سے
سہنے کو ہر ستم ہم تیار ہو گئے ہیں
کرتے ہیں دل میں پیدا جذبہ جو عاشقی کا
وہ حوصلے تو حرف انکار ہو گئے ہیں
ڈھانچے بدل گئے ہیں نئی شاعری کے اب تو
اسلوب فکر پہلے سے بیکار ہو گئے ہیں
کرتے ہیں عقل والے کیوں تجزیہ جنوں کا
اہل جنوں خِرد سے بیزار ہو گئے ہیں
یہ دور نا ملائم ہرگز نہیں انوکھا
اس طرح کے ہزاروں ادوار ہوگئے ہیں
اخترؔ نہیں غزل میں رعنائی تغزل
رنگ زمانہ پر کچھ آشکار ہوگئے ہیں
شائع شدہ:شہباز لاہور