رام جی
اخترؔ آصفی پشاوری
رام جی میری نگاہوں میں پھرا کرتے ہو تم
غمزدہ دل کو مسرت آشنا کرتے ہو تم
تم صنم ہو خانہ دل ہے صنم خانہ مرا
یہ صنم خانہ ہے رونق بخش کاشانہ مرا
حوصلہ فکرجہاں کا نذرِ یارانہ ہوا
دل تمھاری یاد میں دنیا سے بیگانہ ہوا
یہ تو میرا حال ہے اب تم بتاؤ اپنا حال
دل نشیں ہے یاد کس کی جاگزیں کس خیال
یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہونمیں
بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہونمیں
بمقام و تاریخ:ڈھاکہ•۲۹ جنوری ۱۹۵۱
نوٹ:آغا حشر مرحوم