نکات
اخترؔ آصفی پشاوری
اب وہ پہلی سی ان کی بات نہیں
وہ توجه وہ التفات نہیں
جو ترے بام پر نظر آئے
طور پر وہ تجلیات نہیں
وہ دنیا ہے میری اُمیدوں کی
کہ جہاں دن ہی دن ہے رات نہیں
محتسب نے بھی شیخ نے بھی پی
کیا یہ ساقی کے معجزات نہیں
عیش و عشرت میں دن گزرتے ہیں
بار اب ان پہ مری ذات نہیں
کون سا روز روزِ عید نہیں
کون سی شب شبِ برات نہیں
مرے اشعار سن کے فرمایا
کچھ شگفتہ تخیلات نہیں
جوش الفت ہو کم نہیں ممکن
دل کا دریا ہے یہ فرات نہیں
غور سے تم سنو مری باتیں
کام کی ہیں فضولیات نہیں
شائع شدہ:اخبار دید بھارت لاہور
اصل ماخذ میں تحریر بخوبی پڑھی نہ جا سکی جس کے باعث یہ کلام نامکمل ہے۔