غزل 84
اخترؔ آصفی پشاوری
نیاز بندگی ناز آفریں ہے
وہ نقشِ پا ہے اور میری جبیں ہے
یقیں میری محبت کا نہیں ہے
سند اس کی تری چینِ جبیں ہے
مرا مقصودِ الفت دل نشیں ہے
جہاں میں ہوں مری منزل وہیں ہے
سوالِ وصل پر وہ شرمگیں ہے
جواب اس کا مسرت آفریں ہے
تجھے ہو سکتی ہے مجھ سے شکایت
مجھے تجھ سے کوئی شکوہ نہیں ہے
ہے دنیا پر قیامت کی جوانی
یہ قحبہ آج بھی کتنی حسیں ہے
لب نازک پہ یہ ہلکی سی جنبش
نہیں معلوم ہاں ہے یا نہیں ہے
خیالِ زلفِ پیچاں سے خبردار
دلِ ناداں یہ مارِ آستیں ہے
مجھے میری وفا کوشی نے مارا
جفائے حسن غارت گر نہیں ہے
ترے قربان میں اے جوشِ گریہ
مری آنکھوں پہ اس کی آستیں ہے
وہاں ہے مجھ کو نازِ سجدہ ریزی
فلک جس آستانے کی زمیں ہے
دیا تھا غم نے جو افسانہ ترتیب
نچوڑ اس کا نگاہِ واپسیں ہے
دلِ پروردۂ جذبات اخترؔ
شہیدِ تیغِ چشمِ سرمگیں ہے
بمقام:ڈھاکہ