نذر الاسلام
اخترؔ آصفی پشاوری
وہ انقلاب مجسم وہ باغیوں کے نقیب
وہ برق خرمن باطل وہ شاعر اسلام
وہ چمکا کو کب اقبال نزرائے اخترؔ
چراغ شہرت ٹیگور کے بجھے ہیں تمام
نذرالاسلام نے بنگال میں پھونکی ہے وہ روح
زندگی کے نظر آنے لگے آثار یہاں
انقلابات کی ہوتی نہیں منزل کوئی
رک گیا آگے مگر قافلہ سالار یہاں
فتنۂ حشر بپا ہو گا یہیں سے شاید
روز اک فتنہ ہوا کرتا ہے بیدار یہاں
نذرالاسلام کی محفل ہے خموش اے اخترؔ
ہوں گے مقبول بھلا کیا ترے افکار یہاں