نظم
اخترؔ آصفی پشاوری
نظر اسی کی نظر ہے بیشک جو دیکھے ہر شے کو منصفانہ
وہ کور باطن نہیں مبصر نظر جو رکھتا ہو حاسدانہ
کلام اقبال کے سمجھنے کو قلب مومن کی ہے ضرورت
کھلیں گے کیونکر معارف اسپر دماغ جس کا ہو کافرانہ
حکیم و نباض ملک ملت مہاتما ہے نہ مالوی ہے
کہیں ہے چرخہ کا شاخسانہ کہیں ہے جذبات ہندوانہ
وہ جس نے مندر میں برہمن کو جگایا بانگ درا سے اپنی
وہ جس نے کھولے مسیحیوں کے فریب ہائے سیاسیانہ
وہ جسنے شیخ حرم کو اٹھکر دیا ہے درس وطن پرستی
وہ جس نے لے میں حجازیوں کے ترانے گائے ہیں عاشقانہ
وہ جس نے نکتے سمجھا دیے ہیں دلوں کو آزادی عمل کے
کلام جس کا ہے عارفانہ پیام جس کا ھے ملہمانہ
وہ جس نے دیوانگان ملت کو گر سکھائے ہیں حریت کے
مگر با انداز عارفانہ مگر بطرز مجاہدانہ
و جو کہ مسلم ہے اور موحد وطن ہے سارا جہان اسکا
دیا ہے ہند اور قرطبہ کو پیام جس نے مساویانہ
وہ جسکی ہر بات ہے موثر وہ جس کے ہر لفظ میں صداقت
وہ جسکا ہر فعل بے غرض ہے وہ جس کا ہر کام مخلصانہ
وہ جسنے خوابیدہ قوم مسلم کو دل کی آواز سے جگایا
کیا ہے سر جس نے بسکہ ہمت شکن مہم کو فدائیانہ
وہ جسنے رکھا ترقی دیں کا سنگ بنیاد ازسرنور
وہ جس نے کی ہے کھڑی عمارت بلادِ مغرب میں مشرقانہ
وہ جس نے توحید کی کسوٹی کو اپنا معیار دیں بنایا
وہ جس کے دلمیں کبھی نہ پیدا ہوا عقیدہ توہمانہ
نکات جس کی فلاسفی کے رموز جس کی فلاسفی کے
سرور انگیز والہانہ نشاط انگیز و مُشفِقانہ
ہے سہل آسان نکتہ چینی مگر ہے دشوار اور مشکل
برنگ اقبال حریت کا سنانا اقوام کو ترانہ