مہاجروں کی عید
اخترؔ آصفی پشاوری
دیار شوق سے باد سحر پیغام لائی ہے
کہ گلزار جہاں پر پھر بہار عید چھائی ہے
چمن سرسبز ہے پھولی پھلی ہر گل کی ڈالی ہے
چمن والے خوشی میں مست ہیں مسرور مالی ہے
ہوئی کافور ظلمت رنج و غم کی خوشی کا زمانہ ہے
جہاں میں ہر طرف نور مسرت کا اجالا ہے
شرابِ عیش سے سر شار سارے پینے والے ہیں
کہ ساقئی ازل نے باب رحمت کھول ڈالے ہیں
گلوں سے مل رہی ہیں بلبلیں باغ مسرت میں
تمناؤں کی دنیا منہمک ہے عیش و عشرت میں
مگر اے عید دنیائے طرب کی نازنین ہستی
نشاط بادِ عالم کی مسرت آفرین ھستی
خبر ہی ہے تجھے کچھ بے نوا مغموم بیٹھے ہیں
تیری نیرنگیوں سے یک قلم محروم بیٹھے ہیں
جہاں کے میکدہ ہی آج تیرے جام چلتے ہیں
مگر یہ بے وطن سب آتش حسرت میں جلتے ہیں
ہر اک کے لیب پہ آج اے عید خوشیوں کا ترانہ ہے
مگر خیموں میں ان کے ہر طرف غم کا فسانہ ہے
منائیں عید کیا اپنے وطن سے دور بیٹھے ہیں
چمن پروردہ ہیں لیکن چمن سے دور بیٹھے ہیں