محبت والے وہ
اخترؔ آصفی پشاوری
مسکرا دینا ذرا اے سانولی صورت والے
لذت زخم سے واقف ہیں محبت والے
چاند کا داغ تو آتا ہے نظر سینوں میں
پر کہاں ہیں وہ حسیں چاند سی صورت والے
کبر و نخوت کے سوا ان میں نہیں کچھ زنہار
یہ حسیں پھول ہیں شداد کی جنت والے
تیری تصویر تصور میں جو کھچ آئی ہے
نشہ وصل سے سرشار ہیں فرقت والے
جلوه یار سے معمور ہے زرہ زرہ
بزم دنیا میں کہاں چشم بصیرت والے
او نمک پاشِ جفا تری ملاحت کی قسم
خلش اندوز تبسم ہیں جراحت والے
جلوہ آرا تھا تصور میں جو وہ رونق بزم
بزم کا لطف اُٹھاتے رہے خلوت والے
مل کے دیکھو تو کبھی اخترؔ خوش طبع سے تم
نظر آتے ہیں کہاں ایسی طبیعت والے
وجد میں آتے ہیں مکان فلک بھی اخترؔ
جب غزل پڑھتے ہیں آصف کی جماعت والے