مولانا کوثر نیازی
اخترؔ آصفی پشاوری
میرا عشق ہے حقیقی نہ کہو اسے مجازی
کہ مجاز اور حقیقت میں ہے فرق امتیازی
میرے من کی جھلمل میں نئے جوت کی جھلک ہے
اسے کرسکیگی خیرہ نا کسی کی حیلہ سازی
میرے کارواں میں شامل کوئی اجنبی نہیں ہے
کوئی اِن میں یشربی ہے کوئی اِن میں ہے حجازی
وہ ہیں بندہء محبت ہے وفا شعار انکا
جسے آپ جانتے ہیں وہ ہیں کوثر نیازی
میرا شوق کھینچ لایا تری انجمن میں ورنہ
نہ غزل کا میں غزالی نا میں شاعری کا رازی
میرے محتسب سے کہدو نہ کرے وہ بدگمانی
میرا جام کوثری ہے میرا میکدہ نیازی
تیرے سنگ در پہ سجدہ جو کیا حرم پکارا
یہی عین بندگی ہے یہی شیوہ ایازی
میرے تجربہ کا حاصل ہے مری خدا پرستی
نہ بتوں میں ہے محبت نہ ہے ان میں دل نوازی
ان ہی حسرتوں میں اخترؔ تیرے دن تمام ہونگے
یوں ہی ناپ تا رہیگا شب ہجر کی درازی