غزل 77
اخترؔ آصفی پشاوری
مرے شوق کو ہے شورش ترے عشو و ادا سے
مرے دل میں ہے قیامت تری چشم فتنہ زا سے
ہوئی جو بلا مسلط اسے میں نے سر پہ رکھا
مرے دل کو نسبتیں ہیں ترے گیسو ر سا سے
یوں ہی کوبہ کو محبت میں پھیروں نہ کیوں ہمیشہ
میں وہ خاک منتشر ہوں جو ہو دربدر ہوا سے
کبھی آنکل ادھر بھی کہ تجھے میں دل دکھا دوں
یہ وہ شیشہ ہے لبالب جو ہے بادہ وفا سے
یہ اثر مری جبیں پر جو ہے سجدہ کا نمایاں
ہے نشانِ امتیازی سندات نقش پا سے
ترے وعدے پر نہ آنے کی میں کیا کروں شکایت
کہ شکایتیں رہی ہیں مجھے بخت نارسا سے
مرے حال دل کو سن کر وہ کسی کا رخ بدلنا
وہ زبان کو روک دینا مرا عرض مدعا سے
مری نکتہ رس طبیعت ہوئی مشعل ہدایت
جو بتوں سے فیض پایا تو صلہ ملا خدا سے
مرے عشق نے بچھائی جو بساط آرزو کی
چمک اٹھی دل کی دنیا ترے حسن کی ضیا سے
مرے شوق پر بھی ڈالو کبھی تم حیا کا پر تو
مرے دل کو بھی جلاؤ کبھی وعدہء وفا سے
مری چشم شوق اخترؔ اسی شوق میں کھلی ہے
کہ وہ اس طرف بھی شاید کبھی دیکھ لے ادا سے