غزل 35
اخترؔ آصفی پشاوری
میں حسن و عشق کے جذبات کا قاتل نکل آیا
دل اپنا کھو کے تیری بزم سے بیدل نکل آیا
بہت اچھا ہوا میں اکیلے اپنا دل نکال آیا
عدو کی بزم سے وہ رونق محفل نکل آیا
مرے اُٹھتے ہی اس محفل سے محفل میں نہ تھا کوئی
نکلا وہ ستمگر بھی جو میں بیدل نکل آیا
میں جھوٹا ہوں غلط ہے میرا شک یونہی سہی لیکن
اگر اس طرہ گیسو سے میرا دل نکل آیا
قضا آئے جو دشت جستجو میں بول اُٹھی قسمت
کہ اک گم کردہ منزل بھی سرِ منزل نکل آیا
مزا آئیگا شیخ ابروئے قاتل کو کھینچنے پر
جو وہ آوارہ گردِ کوچہ قاتل نکل آیا
بھرم کھل جائیگا اس شمع کی محفل فروزی کا
جو دل سے آتشیں نالہ سرِ محفل نکل آیا
نہ کر نالہ کہ ہے وہ باعث رسوائی اے غافل
اگر گھبرا کے پردے سے وہ نازک دل نکل آیا
چبھا تھا اس طرح دل میں کہ کھینچا اس نے جب اخترؔ
دل حسرت زدہ بھی تیر کے شامل نکل آیا