غزل 18
اخترؔ آصفی پشاوری
کس قدر دلچسپ ہے ان سوختہ جانوں کی بات
شمع نے محفل میں پھر چھیڑی ہے پروانوں کی بات
برسبیل تذکرہ اس گل کا بھی نام آ گیا
میں چمن میں کر رہا تھا چاک دامانوں کی بات
پینے والے بھی بہت ہیں میکدے بھی ہیں بہت
اور ہی کچھ ہے تری محفل کے مستانوں کی بات
خانہ آبادی کی سوجھی عشقِ حسرت کام کو
اس نے کیا سُن لی کسی سے دل کے ویرانوں کی بات
شمع بھی بیگانہ ہے پروانہ بھی نا آشنا
عام کیونکر ہو گئی میرے سیہ خانوں کی بات
اس طرح گذری ہیں راتیں جیسے آئی ہی نہ ہوں
کتنی ارمانوں بھری ہوتی ہے ارمانوں کی بات
جب خرد حد سے گذرتی ہے تو ہوتا ہے جنوں
گم ہیں اربابِ خِردسُن سُن کے دیوانوں کی بات
رند سن کر ہجو مئے ضد پر نہ آجائیں کہیں
بے محل ہے وعظ کی محفل میں میخانوں کی بات
ہے زبان زد آج ذکرِ اخترؔ و فرہاد و قیس
اہلِ دانش کی زباں پر بھی ہے نادانوں کی بات