غزل 29
اخترؔ آصفی پشاوری
کیا کہیں ہم تجھے کیوں مائل فریاد نہیں
تری بیداد ہمارے لئے بیداد نہیں
پوچھنے پر مرے کیوں سوچ میں تم ڈوب گئے
صاف کہہ کیوں نہیں دیتے مجھے کچھ یاد نہیں
عقل پر چھا گئی زلفیں تری سودا بن کر
ترے قیدی کے خیالات بھی آزاد نہیں
جز خس و خار وہاں کیا تھا جو گرتی بجلی
ہم نشیں مرے نشیمن کی یہ روئداد نہیں
دلربائی میں بھی ابرو ہیں ترے طاق مگر
تری آنکھوں کی طرح فن کے یہ استاد نہیں
یادگار اس کے ستم کی نہ مٹی ہے نہ مٹے
داغِ دل شمعِ سرِ رہگذرِ باد نہیں
گھٹ کے مرجاؤں گا زنداں میں یہ ہوگا انجام
رنج ہے جانگسل اور رخصت فریاد نہیں
سر کے بل گر جو پڑا ہے ترے قدموں پہ کوئی
عمداً کی ہے یہ حرکت کوئی افتاد نہیں
نام میرا بھی ہے اب سلسلہ وحشت میں
کون کہتا ہے کہ اخترؔ تیرا اُستاد نہیں