غزل 75
اخترؔ آصفی پشاوری
کہتے ہیں اہل دل مجھے دیوانہ آپ کا
یعنی خراب نرگس مستانہ آپ کا
زلف آپکی ہے آئینہ و شانہ آپ کا
کیوں جلوہ دیکھے خلق حریصانہ آپ کا
ہنستے ہیں آپ کیوں مرے حال خراب پر
کیا بس یہی ہے لطف کریمانہ آپ کا
پیمانہ شراب محبت لئے ہوئے
آتا ہے جھومتا ہوا مستانہ آپ کا
پیر مغاں سے شکل میں ملتے ہو شیخ جی
مشرب بھی ہوتا کاش کہ رندانہ آپ کا
حق کی تو بات یہ ہے کہ اے شیخ و برہمن
کعبہ ہے آپ کا نہ تو بتخانہ آپ کا
قربان جاؤں ساقی بزمِ نشاط کے
یکساں ہے سب پہ لطف کریمانہ آپ کا
چرچا کہاں نہیں مرے حال خراب کا
مذکور کسی جگہ نہیں افسانہ آپ کا
لڑکوں کا اک گروہ ہے ہنگامہ آفریں
آتا ہے شائد اخترؔ دیوانہ آپ کا