کل اور آج
اخترؔ آصفی پشاوری
کل نظر آتے تھے جو حق کے طرفداروں میں
آج شامل ہیں وہ باطل کے پرستاروں میں
کل سرافراز تھے جو قوم کے سرداروں میں
آج وہ شہرہ آفاق ہیں غداروں میں
کل ہی دیکھا تھا جنہیں شاہوں کے درباروں میں
آج آوارہ و رسوا ہیں وہ بازاروں میں
کل جو تھے حلقہ ارباب وفا میں ممتاز
آج مشہور ہیں دنیا کے جفا کاروں میں
کل کی ہے بات جو تھے شیر و شکر آپس میں
آج سرگرم ہیں وہ باہمی تکراروں میں
کل چمکتی تھی جو میداں میں بجلی کی طرح
آج وہ برقی ہی باقی نہیں تلواروں میں
کل جنہیں بادہ صافی کی طلب رہتی تھی
آج وہ ہیں مے نحوت کے قدح خواروں میں
کل پر موقوف نہ کر آج کا کام اے اخترؔ
آج ہی نام لکھا جا کے رضا کاروں میں