غزل 12
اخترؔ آصفی پشاوری
کب میں نے کہا دل میرا دیوانہ نہیں ہے
ہاں رسم و ره عشق سے بیگانہ نہیں ہے
افسانے میں جب تک نہ حقیقت کی جھلک ہو
پریوں کی کہانی ہے وہ افسانہ نہیں ہے
محفل میں میری مے ہے نہ شیشہ ہے نہ ساغر
یہ میکده شوق ہے میخانہ نہیں ہے
ہر جلوے کی کوشش ہے میرے دل میں سما جائے
حالانکہ یہ کعبہ ہے صنم خانہ نہیں ہے
آرائش گیسو دل صد چاک کا ہے کام
اور دیکھنے میں آئینہ ہے شانہ نہیں ہے
کیوں جلوہ صد رنگ سے حیرت میں پڑے آپ
یہ آئینہ خانہ ہے پری خانہ نہیں ہے
فرماتے ہیں وہ واقعہ سن کر میرے دل کا
اس قصہ میں دلچسپیِ افسانہ نہیں ہے
ساقی تیرا اخترؔ ہے بلا نوش نہ کر فکر
مینا تو ہے محفل میں جو پیمانہ نہیں ہے