غزل 81
اخترؔ آصفی پشاوری
جو مجھ سے پوچھا گیا اس کو کیا دیا میں نے
تو اس کی یاد میں خود کو بھلا دیا میں نے
تھی بحث کیفیت جلوہ ہائے جاناں پر
نگاہ شوق کو حیراں بنا دیا میں نے
فراق یار کے صدموں سے دل کا خوں ہوا
تو اس کو آنکھ کے رستے بہا دیا میں نے
نظر کی چوٹ کا قصہ جگر کو کیا معلوم
کہ اس کو دل ہی کے اندر دبا دیا میں نے
میں صدقے کیوں ہے تمہیں اپنی برہمی کا ملال
یہ واقعہ تو ہنسی میں اڑا دیا میں نے
اثر کچھ اس کے بھی دل پر ترا ہوا اے آہ
یہ کہہ کے عرش کا پایہ ہلا دیا میں نے
ہے میری جان بھی حاضر جو تو قبول کرے
کہ دل تو راہ میں تیری لٹا دیا میں نے
اگر چہ تحفہ دل کی مرے حقیقت کیا
یہ کم ہے کیا کہ ترا دل بڑھا دیا میں نے
ڈر ہوا کہ تمہاری جفا پہ حرف نہ آے
بڑھا کے ربط جو تم سے گھٹا دیا میں نے
نظر اٹھا کے بھی دیکھا نہ اس طرف میں نے
اگرچہ نرخ وفا کا گرا دیا میں نے
شراب سے یہ بجھی دل کی پیاس پر نا بجھی
اگر چہ خم کا خم اخترؔ اڑھا دیا میں نے