غزل 49
اخترؔ آصفی پشاوری
جی سے بیزار ہمارا دل ناشاد نہیں
زندگی کا سہارا خلش یاد نہیں
آہ لب پر نہیں نالہ نہیں فریاد نہیں
تیری بیداد ہمارے لیے بیداد نہیں
پوچھنے پر مرے تم سونچ میں کیوں ڈوب گئے
صاف کہہ کیوں نہیں دیتے مجھے کچھ یاد نہیں
جز خس و خار وہاں کیا تھا جو گرتی بجلی
ہم نشیں میرے نشیمن کی یہ روداد نہیں
یہ زمانہ وہ زمانہ ہے کہ کوئی انساں
زینت سرورق عالم ایجاد نہیں
تم کو زیبا نہیں پابندی قید فطرت
تم کوئی سرد نہیں تم کوئی شمشاد نہیں
گھٹ کے مر جاؤں گا زنداں میں یہ ہوگا انجام
طاقتِ ضبط نہیں رخصت فریاد نہیں
تابہ محشر اسے رہتا ہے یو نہیں دامن گیر
خاک پامال وفا نگہت برباد نہیں
نہ کیا شاد اسے تیری نگاہوں نے کبھی
پھر بھی مایوس ہمارا دل ناشاد نہیں
کھو دیا کیفیت جلوه بت نے ایسا
بے خودی کا ہے یہ عالم کہ خدا یاد نہیں
جو نگاہوں میں سمایا وہی دل میں بھی رہا
یہ خدا ہی نے کیا ہے کہ خدا یاد نہیں
یادگار اس کے ستم کی نہ مٹی ہے نہ مٹے
داغ دل شمع سر رہگذر یاد نہیں
عقل پر چھا گئی زلفیں تری سودا بن کر
ترے قیدی کے خیالات بھی آزاد ہیں
نام روشن ہے مرا سلسلہ آصف میں
میں وہ اخترؔ نہیں جو پیروئے اُستاد نہیں