جناب حبیب
اخترؔ آصفی پشاوری
السّلام اے فخرِ اربابِ محبت اے حبیب
آنکھ اوجھل ہے تو کیا توہے مرے دل کے قریب
وہ بھی اک دن تھا میں تھا تیرے چمن کا عندلیب
باغبان دشمن تھا میرا اور نہ تھا گلچیں رقیب
یہ بھی اک دن ہے کہ میں ناشاد ہوں مجبور ہوں
دل تری محفل میں ہے اٹکا ہوا اور دور ہوں