جنابِ عزیز
اخترؔ آصفی پشاوری
اب مخاطب ہے مرا تو اے سخن گر عزیز
شعر تیرا خانہ زاد اور شاعری تیری کنیز
آشنائے مہر و الفت واقف راز جمال
نکته سنج و نکته دان و شاعر نازک خیال
جانتا ہوں ہے فلک پیما تری فکرِ رسا
ہے تری ہستی حقایق پروری سے آشنا
مانتا ہوں فلسفی کاتونے پایا ہے دماغ
ہے ترے سینے میں روشن علم وحکمت کا چراغ
بھول جانے نے ترے مجھ پر کیا یہ آشکار
مرغ دل تیرا بھی ہے شاہین غفلت کا شکار
ڈال ماضی پر نگاہیں یاد آ جاؤں گا میں
تو مجھے پا جائے گا اور تجھ کو پا جاؤں گا میں