غزل 2
اخترؔ آصفی پشاوری
اس ادا سے وہ چمن میں جلوہ ساماں ہو گیا
ہر شگوفہ گل ہوا ہر گل گلستاں ہو گیا
گوہر مقصود ہے اور دامن شوق و نیاز
التفاتِ نازِ گویا ابر نسیاں ہو گیا
موسم گل آتے ہی دست جنوں آزاد تھا
تار دامن کے اڑائے دھجی گریباں ہو گیا
بحر اندوه و الم میں ناخدا کی فکر کیا
جب خدا خود میری کشتی کا نگہباں ہو گیا
کم نہیں شمشیر سے عالم خرام ناز کا
رہگذر میں ہر طرف گنج شہیداں ہو گیا
کون آیا میری تربت کی زیارت کے لئے
رونق افزا عالمِ گورِ غریباں ہو گیا
دیکھ کر عالم حیا کا اِس طرح ہم گم ہوئے
شوق کا گلدستہ زیب طاق نسیاں ہو گیا
سرفرازی اُس نے بخشی پھر نگاہِ ناز سے
پھر چراغِ آرزو دِل میں فروزاں ہو گیا
یوم وحشت کیوں نہ ارباب سخن مل کر منائیں
آج جن کی یاد میں اخترؔ غزل خواں ہو گیا
برائے:مشاعرہ یوم وحشت بلبل اکیڈمی ڈھاکہ (۲۹ جولائی ۱۹۶۱)