الہامِ پاکستان
اخترؔ آصفی پشاوری
تصور تو کرو کیا روح پرور وہ سماں ہوگا
زمیں جب اپنی ہوگی اور اپنا آسماں ہوگا
ادھر پنجاب و سرحد پر گڑے گا دین کا جھنڈا
ادھر بنگال میں اسلام کا سکہ رواں ہوگا
ہماری سرحدیں مل جائینگی ایران و کابل سے
مسلمان بے خطر ہندوستاں کا پاسباں ہوگا
یہ دریا مل کے بن جائیں گے اک قلزم اخوت کا
اور اس قلزم کے آگے گنگ اک ریگ رواں ہوگا
نہ ہم محکوم ہونگے اور نہ ہو گا رنج محکومی
بہ فیض حریت دل شاد ہر پیر و جواں ہوگا
یہ سارے تفرقے مٹ جائیں گے شیخ و برہمن کے
وطن کا گوشہ گوشہ روکش دار الاماں ہوگا
بدل دیگا مورخ اپنے اندازِ نگارش کو
نہ یوں غیروں کا قصہ داستاں در داستاں ہوگا
چمن والے رہیں گے شاد و آزاد اپنے گلشن میں
نہ ڈر صیاد کا ہوگا نہ خوف باغباں ہوگا
بہار بے خزاں کے کیف کا جس پر اثر ہوگا
وہ اپنا ہی چمن ہو گا وہ اپنا گلستاں ہوگا
رہائی سے ہماری ہم قفس کیوں خوف کھاتے ہیں
جو ہم چھوٹے تو پھر ان کا قفس ہی آشیاں ہوگا
اٹل ہے قائداعظم کی یہ تجویزِ پاکستان
یہ ہو گا اور ضرور اے مفتی ہندوستاں ہوگا