ہندوستاں چھوڑا
اخترؔ آصفی پشاوری
چمن چھوڑا چمن میں تھا جو اپنا آشیاں چھوڑا
ہوابے رخ جو توہم نے سبھی کچھ ہاعباں چھوڑا
یکایک درہم و برہم ہوئی محفل محبت کی
یہ کیسا اشغلہ اے چرخ تو نے ناگہاں چھوڑا
نشیمن مطمئن ہے چھوٹنا اس کا ہے ناممکن
قفس میں بھی نہ ہم نے شوق سیر گلستاں چھوڑا
بنائے گا کسے اب تختہ مشق ستم ظالم
زمیں چھوڑی وفاداروں نے تیرا آسماں چھوڑا
نظر آتا ہے نادم برہمن اپنے رویے پردکو
جبیں نے اپنی جب سے اس کا سنگ آستاں چھوڑا
سلوک اہل حرم کادیکھئے کیا ہو وہ سمجھیں ہیں
کہ ہم نے اب ہمیشہ کیلے کوئے بتاں چھوڑا
سبیل اب کیا نکالے دیکھئے گردش زمانے کی
دل ناداں نے تو عقل وجنوں کے درمیاں چھوڑا
یہی ہے منزل مقصد ہوائے زندگی تیری
خدا کے واسطے تونے ہمیں لاکر کہاں چھوڑا
ہوئی ہے اشکِ خونیں رنگ سے تر آستیں ساری
جبیں سجدہ طینت نے یہ کس کا آستاں چھوڑا
تری آنکھوں کے ساغر بھی مروت سے تہی نکلے
ہمیں تونے بھی آخر ساقی نامہرباں چھوڑا
سنے واعظ کے طعنے محتسب کی سختیاں جھیلیں
ترا دامن نہ لیکن ہم نے اے پیر مغاں چھوڑا
اجازت دے کہ دم بھر سایہ گیسو میں دم لے لیں
ترے ہندوں نے سودائے نشاط جاوداں چھوڑا
بھٹکتے پھر رہے ہیں ہر طرف صحرائے حرماں میں
ہمارا ساتھ تونے جب سے امید جواں چھوڑا
ابھی تک پوجتا دل سے اصنام بنارس کو
یہ کیا الزام ہے اخترؔ نے کب ہندوستاں چھوڑا