غزل 83
اخترؔ آصفی پشاوری
حسن میں ثانی اگر چہ آپ کا کوئی نہیں
ہم بھی وہ عاشق ہیں ہم سا باوفا کوئی نہیں
میں تو یوں چپ ہوں کہ دل کو آسرا کوئی نہیں
وہ سمجھتے ہیں کہ اسکا مدعا کوئی نہیں
ہر ستم پر اس کے ہوتا ہے گماں ایجاد کا
اس ادا کا بانی جور و جفا کوئی نہیں
عابدِ صد سالہ ہو یا زاهد شب زنده دار
دیو عصیاں کے شکنج سے بچا کوئی نہیں
کرتے ہیں احباب فکر چارہ سازی کسلیے
میں مریض عشق ہوں میری دوا کوئی نہیں
لے خبراے خضر الفت المدد الیاس عشق
ناؤ ہے منجدھار میں اور نا خدا کوئی نہیں
میں پرستار محبت ہوں قسم اللہ کی
میرے مذہب میں بجزالفت خدا کوئی نہیں
عشق کی بربادیوں سے کس کا دل محفوظ ہے
اس سے بڑھکر اور دنیا میں بلا کوئی نہیں
کیا خبر ہے کب سے پیدا کیا خبر کب تک رہے
درد دل کی ابتدا اور انتہا کوئی نہیں
شیخ صاحب پارسائی ہے مسلم آپ کی
میں سمجھتا ہوں جہاں میں پارسا کوئی نہیں
میں ہوں اور تیرا تصور اے خداوند جمال
شام غم میں اور مغل اسکے سوا کوئی نہیں
چاہتا ہے درد دل کی داد وہ ایک ایک سے
جو سمجھتا ہے مرا درد آشنا کوئی نہیں
سب ہیں اپنے اپنے دل کی کیفیت میں مبتلا
شیخ ہو یا برہمن نا مبتلا کوئی نہیں
یا خدا تیری مدد کا اور کب آئیگا وقت
بت سمجھتے ہیں کہ اخترؔ کا خدا کوئی نہیں