غزل 60
اخترؔ آصفی پشاوری
گلوں سے رنگ تو مستی لبوں سے لی میں نے
شباب و شعر کی تصویر کھینچ دی میں نے
برا ہو دل کا نشے رہا ذرا نہ خیال
وہ بات جو مجھے کہنی نہ تھی کہی میں نے
گری تڑپ کے مرے دل پر ایک بجلی سی
تری نظر کی طرف جب نگاہ کی میں نے
فسانہ صبح جوان کا اپنی کہہ کہہ کر
مٹائی ہے شب فرقت کی بے کلی میں نے
حرم میں شیخ حرم اپنا ہو گیا دشمن
صنم کدے میں جو کی بت سے دوستی میں نے
شباب ساقی مہوش کا دیکھ کر زاہد
بہشت توبہ جہنم میں جھونک دی میں نے
جناب شیخ سے سن کر مذمت صہبا
رہا گیا نہ سنا دی جلی کٹی میں نے
نہ آئی شکل نظر مدعا براری کی
تو دل سے ساری تمنا نکال دی میں نے
پریم اک بت ہندو کا دل پہ نقش کیا
بجائی کعبہ میں گوکل کی بانسری میں نے
نگاه شوق سے جس کو حیا چھپاتی تھی
تری نگاہ میں وہ بات دیکھ لی میں نے
بہار بن کے گلستان زیست میں اخترؔ
گلوں کی گود میں کاٹی ہے زندگی میں نے
برائے:مشاعرہ اسلامیہ کالج کلکتہ (۱۰ اکتوبر ۱۹۳۶)