غزل 4
اخترؔ آصفی پشاوری
گھٹا ہے توبہ شکن موسم بہاراں ہے
جو ایسے میں نہ پیئے مے وہ نامسلماں ہے
نہ کوئی مونس و ہمدم نہ کوئی پرساں ہے
مریض غم کا بس اللہ ہی نگہباں ہے
یہ کس کے جلوہ رنگیں کی چھا گئی ہے بہار
نگاہِ شوق کا ہر گوشہ گل بداماں ہے
وہ داغ کھائے ہیں فرقت میں تیرے اے گلرو
کہ اب خرابہ دِل رشک صد گلستاں ہے
قسم ہے سوزِ محبت کی ہر جراحت دل
تمہارے شور تبسم سے اب نمکداں ہے
حریم ناز میں یہ کون گا رہا ہے غزل
کہ حسن محوِ سماعت ہے عشق رقصاں ہے
یہ انقلاب یہ نیرنگیاں زمانے کی
کہ دِل میں بجائے اُمید ارماں ہے
تھپیڑے کھائے نہ کیوں کشتی نظر میری
بہار اصل میں اک رنگ بو کا طوفاں ہے
وہ بزم ناز جہاں عقل باریاب نہیں
بہ فیض بیخودی اخترؔ وہاں غزل خواں ہے