فردوس خیال
اخترؔ آصفی پشاوری
ہائے اس گل عذار کا عالم
دیدنی ہے بہار کا عالم
اک ساقی کا عنفوان شباب
اس پہ مئے کے خمار کا عالم
تری زلفوں سے ظلمت افزا ہے
مری شب ہائے تار کا عالم
دل افسردہ میں ہے یاد اس کی
ھے خزاں پر بہار کا عالم
ترے وعدہ پہ اے معاذ اللہ
وہ میرے اعتبار کا عالم
خط ساغر سے دل کشا تر ہے
خط احسار یار کا عالم
قیس یاد آیا جب کبھی دیکھا
گرد محمل غبار کا عالم
نظر آتا ہے ترے کوچے میں
چمن پر بہار کا عالم
صبح امید پر نہ چھا جائے
مری شب ہائے تار کا عالم
چھا گیا ہے شراب خانے پر
قدح زرنگار کا عالم
کتنا توبہ شکن ہے اے زاہد
لب جو سبزہ زار کا عالم
دیدنی ہے شراب خانے پر
رحمت کردگار کا عالم
چشم ساقی سے ہے سرور انگیز
اخترؔ بادہ خوار کا عالم
بتاریخ:۲۵ فروری ۱۹۷۳