عید
اخترؔ آصفی پشاوری
آج ہے اقصائے عالم میں مسلمانوںکی عید
اے چراغ بزم وحدت تیرے پروانو کی عید
پھر صنم خانے سے شور اٹھا مبارک باد کا
آج پھر دنیا میں کعبہ کے دربانوں کی عید
آج بے پھر ساقی بزمِ طرب کا فیض عام
میکدے میں کٹ رہی تیرے مستانوں کی عید
اپنی کٹیا میں غریب بے نوا بھی مست ہے
ہے اگر زردار کو حاصل پری خانوں کی عید
رو رہے ہیں گردن آہو میں بانہیں ڈال کر
دیدنی ہے وادی الفت میں دیوانوںکی عید
کیا تعجب ہے کہ ایسے میں اسے مل جائے دوست
اخترؔ محروں کی بھی ہو جائے ارمانوں کی عید