غزل 74
اخترؔ آصفی پشاوری
دور چلتا ہے زمین پر آسماں پر جام ہے
مہر گویا کو کب تقدیر مئے آشام ہے
حق سمجھتے ہیں جسے ہم وہ ہے آزادی ضمیر
بندہ حق وہ بھی ہے جو بندہ اصنام ہے
گردشِ ایامِ در په مائل عشرت دماغ
زندگی شمعِ سحر ہے دل چراغ شام ہے
پختہ کاری چاہتے ہو تو خودی سے ہاتھ اٹھاؤ
بیخودی جب تک محبت میں نہیں ہے خام ہے
روز اک پیغام دیتا ہے طلوع آفتاب
جو سمجھ لے اس کو یہ پیغام اسی کے نام ہے
تو جہاں گر جائے تھک کر پہلی منزل ہے وہی
دل مسافر کا جہاں ڈوبے وہیں پر شام ہے
دانہ گندم نہیں تھا وجہ تحریک گناہ
فطرتِ انساں خرابِ لغزشِ یک گام ہے
زندگی کا سلسلہ رکتا ہے جا کر موت پر
کاش یہ بھی جانتے کیا موت کا انجام ہے
دل ہے دورایمان سے سرِ وقفِ دیوارِ حرم
کس کو کس کو روئے اخترؔ یہ شورشِ عام ہے
برائے:برائے مشاعرہ دائرہ ادب، چاٹگام (۱۰ دسمبر ۱۹۵۱)