چونچ دیکھ کر
اخترؔ آصفی پشاوری
نظم بہتر نثر خوشتر دیکھ کر
خوش ہوئے ہم چونچ پیپر دیکھ کر
اپنے کیا غیروں کو بھی حیرت ہوئی
اک سے اک مضمون بڑھ کر دیکھ کر
دم دبا کر بھاگ اٹھے سب رقیب
شوخ کے ہاتھوں میں ہنٹر دیکھ کر
دل پکڑ کر رہ گئے آئینہ میں
حسن کا اپنے وہ منظر دیکھ کر
وعده وصل ان کو یاد آیا مگر
تیرے دن کو کلنڈر دیکھ کر
دل بچھے ہیں سینکڑوں کے راہ میں
راه چلئے بندہ پرور دیکھ کر
صبح آئی اک چھچھوندر سی نظر
شب ہوئے تھے جن کو ششدر دیکھ کر کر
وادی پُرخار ہے میدانِ عشق
پاؤں رکھنا اس میں اخترؔ دیکھ کر