غزل 19
اخترؔ آصفی پشاوری
چشم ساقی کے تصور میں رہا کرتے ہیں
بادہ شوق کو ہم روح فزا کرتے ہیں
حسن فطرت میں برا بھی نہیں اچھا نہ سہی
جو برا کہتے ہیں اس کو وہ برا کرتے ہیں
غیر کی موت پہ آنسو نہ بہا دریا دور
واقعات ایسے تو ہر روز ہوا کرتے ہیں
دھوپ جب حال کی کرتی ہے طبیعت کو خراب
سانس ہم سایہ ماضی میں لیا کرتے ہیں
حلقے دل کش سہی زلفوں کے بلا میں نہ پھنسیں
دیکھے حضرتِ دل آپ یہ کیا کرتے ہیں
التفات ان کا ہے غفلت سے بحر حال اچھا
جورِ بے جا بھی جو کرتے ہیں بجا کرتے ہیں
جی سے کس طرح بھلاؤں انہیں عالم یہ ہے
دل میں رہتے ہیں وہ آنکھوں میں پھرا کرتے ہیں
چشم ساقی سے عقیدت کی بدولت اکثر
ہم پئیں یا نہ پئیں مست رہا کرتے ہیں
سینہ تانے ہوئے جاتے ہیں ادھر ہم اخترؔ
جس طرف تیر نگاہوں کے چلا کرتے ہیں