بوالہوس کے نام
اخترؔ آصفی پشاوری
ظرف حالی نہیں تیرا ہوس۔۔۔نکر
بوالہوس مشربِ رندانہ کو بدنام نکر
یہ تو مُژدہ ہے محبت کی پذیرائی کا
دلِ ناداں گلہ گردش ایام نکر
رفعتِ عزم سے انسان کو ہوتا ہے عروج
پستئی حوصلہ سے سعی کو بدنام نکر
گر مصائب رہ منزل کے نہ اٹھ سکتے ہوں
کامیابی کی ہوس میں کبہی اقدام نکر
اپنے ہی جذبہء صادق کو بنالے رہبر
بے خبر پیروائ خضرِ سُبک گام نکر
حرف اسلاف پہ آئے نہ غلط کاری سے
ہو جو غارت گِر ناموس تو وہ کام نکر
لمحے لمحے کا ہے اللّٰہ کفیل اے غافل
صبح کی فکر نکر وسوسہ شام نکر
ضبط بیدار کا خوگر ہو ستم کش ہوجا
اخترؔ خستہ جگر شکوہ اصنام نکر
شائع شدہ:ترجمان سرحد (۲۱ اگست ۱۹۳۳)
اصل ماخذ میں تحریر بخوبی پڑھی نہ جا سکی جس کے باعث یہ کلام نامکمل ہے۔