بے وطن کی عید
اخترؔ آصفی پشاوری
زرے زرے سے نمایاں ہے عجب جوش و خروش
عید آئی عام ہے امروز فیضِ مے فروش
ہے خرابات مغاں میں اہتمامِ جشنِ شوق
قُلقُلِ مینا سے اُٹھتی ہے صدائے ناؤ نوش
ہیں حسینانِ جہاں مستِ شراب و انبساط
ان کی چشم ناز ہے فرطِ خوشی سے مے فروش
مطربِ فطرت نے چھیڑا سازِ آهنگ سرود
عید کی گلبانگ عشرت بن گئی فردوس گوش
سنبل پیچاں صنوبر سے گلے ملنے لگی
ہم بغل ہوتے ہیں فرط عیش سے سب گلفروش
سنتے ہیں ہر سمت سے نغمے مبارکباد کے
کون ہے وہ آج عشرت سے نہیں جو عیش کوش
کچھ خبر ہی ہے تجھے اے شادیوں کی سلسبیل
ہے کوئی مہجور فرط رنج سے حسرت نیہوش
عید اس کی ہے جسے دیدِ جمال یار ہو
عید اُس کی ہے جو غم کے بعد ہے اب عیش کوش