غزل 70
اخترؔ آصفی پشاوری
بیگانہ وار پھر گئے محفل میں لا کے ساتھ
اچھا سلوک تم نے کیا آشنا کے ساتھ
مشکل ہوا معاملہ شاید خدا کے ساتھ
بندوں نے رشتہ جوڑ لیا ماسوا کے ساتھ
بلبل قفس میں بھول گئی نغمہ سنجیاں
فطرت بدلتی رہتی ہے اب ہوا کے ساتھ
پینے کی یہ ادا نہیں بھاتی ذرا ہمیں
تم آؤ یا تو جانے دو ہم کو قضا کیساتھ
مقصود تھا کہ رنگ بدلتا رہے جہاں
اس نے قضا کا رشتہ بھی جوڑا بقا کیساتھ
ہے لطف بزم ناز دو بالا اگر رہے
میری نگاہ شوق بھی تیری حیا کیساتھ
آنکھیں زبان حال سے کرتی ہیں عرض حال
بے باکیاں کہاں نگہ التجا کے ساتھ
دنیا کی قید و بند سے آزاد ہو گیا
وابستہ ہو کے دل تری زلف دوتا کے ساتھ
تجدید دوستی کا اشارہ ہوا مجھے
انکار دوستی ترا ناز و ادا کے ساتھ
اللہ رے پاس ذوق اسیر شوق کا
خوشبو چمن سے آتی ہے موج ہوا کے ساتھ
وصال یار کی قیمت ہے نقد جاں
آئی ہے نوید پیام قضا کے ساتھ