غزل 79
اخترؔ آصفی پشاوری
انگور کے دانے ہوں کہ انجیر کے دانے
مل جائیں گے مجھ کو میری تقدیر کے دانے
بھُن جائینگے ان پر نظرِ گرم نہ ڈالو
نقطے نہیں حرفوں پہ ہیں تحریر کے دانے
بے وجہ نہیں زلف پر افشاں کا تصور
ہے مد نظر باندھنا زنجیر کے دانے
دنیا میں معاصی کے شجر بن کے وہ نکلے
فردوس میں بوئے تھے جو تقصیر کے دانے
جو اس میں پھنسا پھر وہ رہا ہو نہیں سکتا
حلقے ترے گیسو کے ہیں زنجیر کے دانے
دیتے ہیں خبر غیب کی یہ دیکھ کے اُن کو
پالے میں نجومی کے کہ تزویر کے دانے
بازار میں کوشش کے نکلتے نہیں اخترؔ
گھر بیٹھے جنہیں ملتے ہیں تقدیر کے دانے
برائے:مشاعرہ نارکل ڈانگہ (۱۹ اگست ۱۹۳۹)