غزل 48
اخترؔ آصفی پشاوری
عبث ہیں دیر وحرم کے جھگڑے وہ ان گھروں میں کہیں نہیں ہے
خدا کا جلوہ بجز محبت قسم خدا کی کہیں نہیں ہے
گماں کرو یقیں پہ اپنے گماں برائے یقین نہیں ہے
سوا تمہارے کوئی بھی مرے حریم دل میں مکیں نہیں ہے
سرائے فانی میں ہر نفس ہے پیامبر وقت واپسیں کا
چلا دے اک دور اور ساقی ثبات کا کچھ یقیں نہیں ہے
نگاہ بنتِ عنب پر ڈالے مجال شیخ حرم کی کیا ہے
بری ہے یہ بزم میکشانی یہ خور خلد بریں نہیں ہے
ہر ایک ذرے میں دیکھتا جمال مطلق میں عکس تیرا
تو مرے دل میں بسا ہوا ہے اگرچہ پہلو نشیں نہیں ہے
سبب ہے ساری برائیوں کا دماغ سے نفس کا تعلق
ضمیر خیر الورا ہے لیکن خیال روح الامیں نہیں ہے
یہ ضد تعلق کی پردہ در ہے لگاؤ ہے لاگ سے نمایاں
مجھے تیری ہاں کی آرزو تھی تری زباں پر نہیں نہیں ہے
ترے تصور میں جو لگن ہے اُسے کوئی مبتلا کہے کیوں
جو غم کو سمجھے خوشی کا باعث وہ خاطر اندوہکیں نہیں ہے
مرے لیے باعث تسلی ہوا ہے تیرا عتاب نامہ
اگر چہ تحریر آرزو کا جواب چلن جیں نہیں ہے
چلے ہو کوئے صنم کو اخترؔ ٹٹول لو دل کے حوصلے کو
کہ اس نے توڑے ہیں دل ہزاروں وہ آسماں ہے زمیں نہیں ہے