غزل 78
اخترؔ آصفی پشاوری
عبث ہیں دیر و حرم کے جھگڑے وہاں گھر میں مکیں نہیں ہے
خدا کا جلوہ بجز محبت قسم خدا کی کہیں نہیں ہے
یقین کرو کیوں گماں پر اپنے گماں برائے یقیں نہیں ہے
سوا تمہارے کوئی بھی میرے حریم دلمیں مکیں نہیں ہے
سرائے فانی میں ہر نفس ہے پیامبر وقت واپسیں کا
چلا دے اک دور اور ساقی ثبات کا کچھ یقین نہیں ہے
نگاہ بنتِ عنب پہ ڈالے مجال شیخ حرم کی کیا ہے
پری ہے یہ بزم میکشانکی یہ حور خلد بریں نہیں ہے
ہر ایک ذرے میں دیکھتا ہوں میں تیرا عکس اے جمال مطلق
تو میرے دل میں بسا ہوا ہے اگرچہ پہلونشیں نہیں ہے
نکلے حجرے سے فصل گل میں فضا ئے میخانہ پر نظر کر
فقط تصور میں تیرے زاہد بہار خلد بریں نہیں ہے
سبب ہے ساری برائیوں کا دماغ سے نفس کا تعلق
ضمیر خیرالورا ہے لیکن خیال روح الامیں نہیں ہے
یہ ضد تعلق کی پردہ در ہے لگاؤ ہے لاگ سے نمایاں
مجھے تری ہاں کی آرزو تھی تری زباں پر نہیں نہیں ہے
ترے تصور میں جو مگن ہے اسے کوئی مبتلا کہے کیوں
جو غم کو مجھے خوشی کا باعث وہ خاطر اندوہکیں نہیں ہے
مرے لئے ہے باعث تسلی ہوا ہے تیرا عتاب نامہ
اگرچہ تحریر آرزو(۱) کا جواب چین جبیں نہیں ہے
چلے ہو کوئے صنم کو اخترؔ ٹٹول کے حوصلے کو
کہ اس نے توڑے ہیں دل ہزاروں وہ آسمان سے زمیں نہیں ہے