دعوتِ حق
اخترؔ آصفی پشاوری
آؤ دیوانو! نشاطِ روح کا ساماں کریں
مِل کے لیلائے وطن پر جان قربان کریں
آؤ کہنا مان لیں ہم صدرِ پاکستان کا
انحرافِ حق سے کیوں برباد ہم ایماں کریں
نقش کر دیں صفحہء تاریخ پر اپنی ثابت
بے عمل جو ہیں انہیں بھی عامِلِ قرآن کریں
فیض کردیں عام ہم خمخانہء اسلام کا
جامۂ پندار کو غرقِ مے عرفاں کریں
نقشِ باطل کا نہ ہرگز عذرِ دشواری بنیں
اور درمیاں حائل ہو جو مشکل اسے آساں کریں
ساری دنیا کو دکھا دیں سعی و کوشش کا مآل
اپنے مستقبل کو ماضی کی طرح رخشاں کریں
شائع شدہ:مشرق پشاور (۱۶ دسمبر ۱۹۸۴)، بسلسلہ ریفرنڈم (۱۶ دسمبر ۱۹۸۴)