بہار دیکھنے والے بہار دیکھیں گے
اخترؔ آصفی پشاوری
وہ اپنی ترچھی نگاہوں کا وار دیکھیں گے
ہم اپنے سینہ و دل کو فگار دیکھیں گے
چلے گی اپنے چمن میں نسیم آزادی
ستم کشان خزاں پھر سہیار دیکھیں گے
چمن میں دور خزاں ہے مگر تصور سے
بہار دیکھنے والے بہار دیکھیں گے
فال کَیف سے واقف نہیں جو اے ساقی
وہی مصیبت جوش خمار دیکھیں گے
نہ ہم اب آئیں گے تیرے فریب میں ظالم
نہ اور وعدہ لیل و نہار دیکھیں گے
خلش کا دل سے تقاضا ہے بار بار اخترؔ
اک اور تیر نظر کا بھی وار دیکھیں گے
شائع شدہ:اخبار دید بھارت لاہور