نعت
اخترؔ آصفی پشاوری
طیبہ میں جذبہ صادق کا اثر دیکھیں گے
کیسی ہوتی ہے محبت کی نظر دیکھیں گے
الله الله اثر کیفیت نازو نیاز
آج ہم جذبہ صادق کا اثر دیکھیں گے
پابہ جولاں ہمیں جانا ہے مدینے کی طرف
آج یارانِ طریقت کا جگر دیکھیں گے
دیکھ کر اُن کو نہ دیکھیں گے کسی کی صورت
آنکھ کس طرح ملائیں گے اگر دیکھیں گے
ملتفت کر کے انہیں دیدہ گریاں کی طرف
اشک کس طرح سے بنتے ہیں گوہر دیکھیں گے
خوابگاہِ شہہ بطحا کی طرف جائیں گے جب
شام دیکھیں گے نہ شب اور نہ سحر دیکھیں گے
جا کے سنگِ در محبوب پہ رکھ دیں گے جبیں
دل پہ کیا ہوتا ہے سجدے کا اثر دیکھیں گے
جس ہر زرے نے دیکھا ہے حور کا جمال
ہم وہی آئینہ سجا راہگذر دیکھیں گے
ہو مبارک ہمیں وہ تاروں بھری رات اخترؔ
چھاؤں میں جس کی ہم احمد کا نگر دیکھیں گے